سپریم کورٹ نے ایمان مزاری سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کر دی، جبکہ بتایا گیا کہ اسی مقدمے کی سماعت 24 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی مقرر ہے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس 24 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔
ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ میں کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت بھی پراسیکیوشن کی درخواست پر ملتوی ہوئی تھی اور انصاف کی توقع سپریم کورٹ سے ہی ہے۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں بیٹھ کر ہائی کورٹ کی کارروائی کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا۔
اس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اپنایا کہ متعدد مقدمات میں سپریم کورٹ ہائی کورٹس کو احکامات جاری کرتی رہی ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریگولیٹ کرنے اور احکامات جاری کرنے میں فرق ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے قابلِ سماعت ہونے کے قانونی نکتے پر ان کے دلائل سن لیے جائیں، بصورت دیگر کیس کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔