ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے ’آپریشن نصر 2‘ کی 24ویں لہر کے تحت اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر متعدد میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی ایرو اسپیس فورس کے اہلکاروں نے اردن کے علاقے الرکبان میں قائم امریکی فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دوران اردن میں واقع ایک اور امریکی اڈے پر میزائل دفاعی ریڈار سسٹم کو تباہ کیا گیا، جبکہ ہینگر میں موجود ایک امریکی F-15 جنگی طیارے کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ پاسداران کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا کر وسیع تر میزائل و ڈرون حملوں کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔
اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی کمپنی 'ایمازون' کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو بھی کئی کروز میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات امریکی فوج کی جانب سے دارخوین میں زیرِ تعمیر اور غیر فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ بیان میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے امریکی فوج خطہ چھوڑ دے کیونکہ یہ خطہ امریکی جارحیت پسند افواج کے لیے نہیں ہے۔
ایرانی دعوؤں کی تردید، اردن کا حملے ناکام بنانے کا اعلان
دوسری جانب، اردن کی مسلح افواج نے ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے 3 میزائل حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا ہے۔ اردنی فوج کے بیان کے مطابق ایرانی میزائلوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور ان حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔