گذشتہ روز دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایک پائلٹ پر قابو پایا جن کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بظاہر اس طیارے کو گرانا چاہتے تھے۔

گذشتہ روز دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایک پائلٹ پر قابو پایا جن کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بظاہر اس طیارے کو گرانا چاہتے تھے۔ دوسری جانب کچھ مسافروں نے اس ’خوفناک‘ لمحے کو بیان کیا جب انھیں لگا کہ وہ مارے جائیں گے۔
اس سارے واقعے کے بعد خون آلود قمیض میں ملبوس یانیو ہیون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو بتایا کہ انھیں تب ہی احساس ہو گیا تھا کہ کچھ غلط ہے جب طیارے اچانک تیزی سے نیچے گیا۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی یہ پرواز دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17,000 فٹ (5,200m) نیچے آیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ہیون کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’کسی نے چیخ ماری... پھر اندھیرا چھا گیا۔‘
ہیون نے دوسرے مسافروں کے ساتھ مل کر کاک پٹ کے دروازے کو دھکیل کر کھولنے کی کوشش کی لیکن جس پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا وہ اس کے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے دروازی کھولنا مشکل تھا۔ تاہم بیہوش ہونے سے قبل زخمی پائلٹ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔
جب ہیون ایک اور مسافر کے ہمراہ کاک پٹ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک پائلٹ نیچے گرا ہوا ہے جبکہ دوسرا پائلٹ دو سیٹوں کے درمیان آلات پر جھکا ہوا تھا۔ ہیون کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور ’طیارے کو ناکارہ کرنے کے لیے آلات کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
ہیون نے بتاتے ہیں کہ ’میں نے حملہ آور کو پکڑا، اسے گردن سے دبوچا اور اسے سب سے پہلے باہر کی طرف کھینچ لیا۔‘
’ہم نے اسے باہر نکالا، یہ چند سیکنڈوں کی بات تھی۔ میں نے ہوائی جہاز میں سوار دیگر اسرائیلی لڑکوں کو آواز دی - میں نے انھیں بلایا، اور دو اور لوگ میرے پاس آئے... ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے اسے نیچے گرا دیا۔‘
ہیون نے بتایا کہ اس کے بعد وہ واپس کاک پٹ میں داخل ہوا اور ’کنٹرول کو کھینچنا شروع کیا۔‘
جب نیتن یاہو نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو مسافر نے جواب دیا: ’میں ایئر کریش انویسٹی گیشن دیکھ رہا ہوں، مسٹر پرائم منسٹر۔‘
ہیون نے کہا کہ ہوائی جہاز پھر اوپر آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت تک، دو آن ڈیوٹی پائلٹ جو مسافروں کے کیبن میں موجود تھے، جہاز کے اگلے حصے تک پہنچ گئے تھے اور ان میں سے ایک نے ہیون سے کہا کہ اب وہ جہاز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ہیون کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’عظیم ہیرو‘ اور ’شیر‘ قرار دیا۔
ایک اور مسافر زویکا مینیس نے اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان کو بتایا کہ انھوں نے حملہ آور پر قابو پانے میں مدد کی، اور مسافر اور دو دیگر افراد نے ’انھیں ان ہی کے زپ ٹائیز اور ملٹی میڈیا ہیڈ فون کی مدد سے باندھ دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسافر کیبن میں بیٹھے ایک اور پائلٹ اضافی پائلٹ کی جگہ اندر گئے اور انھوں نے جہاز کو لینڈ کیا۔

فلائی دبئی کی پرواز بالآخر شمال مغربی سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر اتری، اور بعد ازاں ایک دوسرے طیارے میں مسافروں کو تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے لے جایا گیا۔
تل ابیب پہنچنے پر ناچتے، گانے اور اسرائیلی پرچم لہراتے تماشائیوں کے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔
فلائی دبئی کی اس پرواز کے ایک مسافر ہیم لازارووچ نے صحافیوں کو بتایا ’خدا کا شکر ہے کہ میں زندہ ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس پرواز کا سب سے خوفناک لمحہ وہ تھا جب پائلٹ کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔‘
ایک 18 سالہ مسافر اوران چوئن نے اس واقعے کو ’بہت مشکل لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’شاید یہ صرف پانچ منٹ تھے، لیکن یہ کسی عذاب کی طرح محسوس ہو رہا تھا - میں نے اپنے پیچھے اپنے بھائی کو چیختے ہوئے سنا کہ ہم مرنے والے ہیں۔‘
اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے ایک پیرامیڈیک نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے لوگ جہاز سے اترتے وقت بہت جذباتی تھے اور رو رہے تھے۔
حملہ آور پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے 'جہادی دہشت گرد حملے کی کوشش' قرار دیا ہے۔ سرکاری سطح پر تاحال اس واقعے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور نہ ہی اس بارے میں مزید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے نیتن یاہو سے بات کی تھی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور ’شاید دہشت گرد‘ تھا یا اس حملے کے پیچھے کچھ اور وجوہات تھیں۔