سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے 11 سال کی معصوم بچی کو بعد از زیادتی قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کرنے والے مجرم گوہر کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیلِ دفاع نے موقف اپنایا کہ پولیس کی جانب سے ملزم کا نہ تو ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا گیا اور نہ ہی فنگر پرنٹس لیے گئے۔
سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس شہزاد احمد ملک نے کیس کے دردناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 11 سالہ بچی کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا بلکہ سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے مختلف مقامات پر پھینکے گئے۔
وکیلِ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مجرم گوہر مقتولہ بچی کے والد کا دوست تھا جس نے اس اعتماد کا شدید غلط استعمال کیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس پر اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ"قتل ایک گولی سے بھی ہوتا ہے اور لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے بھی۔ عدالت کا کام جذباتی ہونا نہیں، لیکن اگر اس جیسے سنگین کیس میں بھی سزائے موت نہ دی جائے تو پھر کس کیس میں ہوگی؟"
تمام دلائل سننے کے بعد عدالت العالیہ نے مجرم کی درخواستِ اپیل کو خارج کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کے حکم کو بحال رکھا۔
واضح رہے کہ مجرم گوہر نے سنہ 2005ء میں کراچی کے علاقے لانڈھی میں اپنے ہی دوست کی 11 سالہ بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا اور شواہد مٹانے کی غرض سے لاش کے ٹکڑے کردیے تھے۔