یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کردی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی ”آنکھ کے بدلے آنکھ“ کی پالیسی کے تحت نافذ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق باب المندب کی اہم آبی گزرگاہ سعودی جہاز رانی کے لیے بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر حوثیوں نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ حوثی اس بحری ناکہ بندی کو عملی طور پر کس حد تک نافذ کرسکیں گے، تاہم اس اعلان نے خطے میں سیکیورٹی خدشات اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔