مون سون کے موسم میں نمی بڑھنے کے باعث گھروں میں رکھے دالوں، چاول، گندم اور دیگر اناج میں جلد کیڑے لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس سے نہ صرف خوراک ضائع ہوتی ہے بلکہ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ تاہم چند آسان گھریلو تدابیر اپنا کر اس مسئلے سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
لہسن چھیلنے کے بعد اس کے چھلکے اور درمیان کی سخت ڈنڈی کو ضائع کرنے کے بجائے محفوظ کرلیں۔ انہیں ٹشو پیپر میں لپیٹ کر دال یا اناج کے ڈبے میں رکھ دیں۔ عام گھریلو تجربات کے مطابق اس سے موجود کیڑے باہر نکل جاتے ہیں اور نئے کیڑے لگنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح دال اور اناج کے ڈبوں میں چار سے پانچ ثابت خشک لال مرچیں یا نیم کے چند تازہ یا خشک پتے رکھنا بھی ایک معروف گھریلو نسخہ سمجھا جاتا ہے، جو کیڑوں کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آٹے کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈبے میں موجود آٹے کا کچھ حصہ نکال کر ململ کے کپڑے میں سیاہ زیرہ اور لاہوری نمک کی ایک چھوٹی سی پوٹلی بنا کر رکھ دیں۔ پھر آٹا واپس ڈال کر اوپر چند ثابت خشک لال مرچیں رکھ دیں۔ یہ طریقہ بھی گھریلو سطح پر کافی عرصے سے استعمال کیا جاتا ہے۔
چاولوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے انہیں پہلے دھوپ میں اچھی طرح سکھا لیں۔ اس کے بعد آنبہ ہلدی کے چند ٹکڑے، نیم کے پتے اور تھوڑا سا لاہوری نمک ملا کر چاولوں میں اچھی طرح مکس کریں۔ آخر میں ہاتھوں پر معمولی سا سرسوں کا تیل لگا کر چاولوں پر ہلکی تہہ بنا دیں اور پھر انہیں خشک، صاف اور ہوا بند ڈبے میں محفوظ کر دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اناج کو محفوظ رکھنے کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اسے ہمیشہ خشک، ٹھنڈی جگہ اور ہوا بند برتن میں رکھا جائے، کیونکہ نمی کی موجودگی ہی کیڑوں اور پھپھوندی کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔
نوٹ: مذکورہ ٹوٹکے عام گھریلو تجربات پر مبنی ہیں۔ اگر اناج میں بہت زیادہ کیڑے یا پھپھوندی لگ جائے تو اسے استعمال کرنے کے بجائے تلف کرنا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔