امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز میں واقع ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکے گا۔
وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نطنز کے پہاڑوں میں واقع ایرانی ایٹمی مرکز کو جلد نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکی بی-2 بمبار طیاروں نے ایک سال قبل ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا، جس کے نتیجے میں نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک بھی شدید خطرات سے دوچار ہوتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو غیر معمولی حد تک کمزور کر دیا ہے، تاہم اردن میں ایران کی جانب سے کچھ نقصان ضرور پہنچایا گیا۔ ٹرمپ نے اس موقع پر دیگر آپریٹرز کا بھی ذکر کیا تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ اس سے ان کی مراد کون تھے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا سے مذاکرات کا خواہاں ہے کیونکہ اسے شدید تباہی کا سامنا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے اس وقت ایران سے ملاقات کی کوئی خواہش نہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایک سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ ایران ممکنہ طور پر اس معاملے کو امریکی کانگریس کے آئندہ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا اپنے فیصلے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ کشیدگی کا امریکی انتخابات پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔