پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے پر الرٹ جاری کرتے ہوئے دریا کنارے رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ اور قادر آباد کے مقام پر بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ تاہم خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
ادارے کے مطابق کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 17 ہزار کیوسک جبکہ چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ مون سون کا دوسرا اسپیل 24 جولائی تک جاری رہنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور جہلم میں فی الحال پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، البتہ نالہ بئیں میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال موجود ہے۔ بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دریا کے پاٹ میں موجود افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پیشگی انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرین کو بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ موسم اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت اور تفریح سے گریز کریں، جبکہ دریا عبور کرنے کے لیے صرف معیاری کشتیوں اور لائف جیکٹس کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ والدین سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کو ہرگز دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں میں نہانے نہ دیں۔
پی ڈی ایم اے نے ایک بار پھر دریاؤں کے قریب رہائش پذیر افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ سے تعاون کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔