راہول گاندھی کی گرفتاری کی ویڈیو وائرل، زمین پر گھسیٹے جانے کے مناظر نے ہلچل مچا دی

image

بھارت میں کانگریس کے سینئر رہنما اور حزبِ اختلاف کے قائد راہول گاندھی کی گرفتاری کے دوران پیش آنے والے مناظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار انہیں حراست کے بعد زمین پر گھسیٹتے ہوئے لے جاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اردگرد موجود صحافی ان سے ردعمل لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راہول گاندھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے احتجاج میں شریک تھے۔ اگرچہ انہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا تاہم گرفتاری کی ویڈیو اور تصاویر نے حکومت کے طرزِ عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پر راہول گاندھی کی گرفتاری کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور جمہوری احتجاج کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔

ویڈیو میں راہول گاندھی مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں اس وقت بھارت میں جمہوریت کی حقیقت آپ سب کے سامنے ہے۔ کانگریس نے ایک اور تصویر بھی جاری کی جس میں پولیس اہلکار انہیں اٹھا کر لے جاتے نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی نے تصویر کے ساتھ لکھا کہ مودی حکومت کے دور میں جمہوریت کی یہی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔

احتجاج کی قیادت سوشل میڈیا سے ابھرنے والی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کر رہی ہے جو 2024 میں مودی حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا عوامی احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے دہلی میں احتجاجی دھرنے کے دوران حکومت پر طلبہ کے مسائل نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور ایک روز قبل مظاہرین پر ہونے والے لاٹھی چارج کی بھی مذمت کی۔

دوسری جانب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت امتحانی نظام میں شفافیت، اصلاحات اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور طلبہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

نیو دہلی میں احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بعض مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا۔

پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 60 شہری اور 118 اہلکار زخمی ہوئے۔ دہلی کے علاوہ ممبئی اور بنگلورو میں بھی بڑی تعداد میں افراد نے طلبہ کے حق میں احتجاج کیا۔

بدھ کے روز بھی سینکڑوں مظاہرین دہلی کے مشہور احتجاجی مقام جنتر منتر پر موجود رہے۔ سی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

یہ احتجاج امتحانی نظام پر اٹھنے والے سنگین سوالات کے بعد شروع ہوا۔ طبی شعبے کے داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے اور تقریباً 20 لاکھ امیدواروں کے دوبارہ امتحان لینے کے فیصلے نے عوامی غصے کو بڑھا دیا، جبکہ ہائی اسکول کے نتائج اور آن لائن مارکنگ سے متعلق تنازعات نے بھی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US