یمن کی حوثی اکثریتی جماعت انصاراللہ نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکرز کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
انصاراللہ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام یمن پر سعودی عرب کے عائد کردہ محاصرے اور صنعا ایئرپورٹ کی بندش کے جواب میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی اور برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے ساحل الشقیق سے 70 ناٹیکل میل دور سعودی ملکیت والے جہاز پر میزائل حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
ٹینکر کے کپتان اور حکام کے مطابق جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگی تاہم عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور واقعے میں کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات رپورٹ نہیں ہوئے۔
وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور علاقائی امن و سمندری تجارت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مسلسل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔