پانچ ماہ کے طویل انتظار کے بعد ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ اسکول پر حملے میں جاں بحق ہونے والی 32 طالبات کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے مکمل کرلی گئی، جس کے بعد انہیں انتہائی رنج و غم کے ماحول میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق شناخت کی تصدیق کے بعد طالبات کے جسدِ خاکی ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کیے گئے۔ بعد ازاں میناب میں اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہریوں، لواحقین اور مقامی حکام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ فضا سوگوار تھی اور ہر طرف خاموشی اور غم کے آثار نمایاں تھے۔
تدفین کے موقع پر دل گرفتہ مناظر دیکھنے میں آئے۔ کئی مائیں اپنے بچوں کے تابوتوں سے لپٹ کر روتی رہیں، جبکہ اہلِ خانہ اپنے پیاروں کو آخری بار الوداع کہتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ سال 27 جون سے شروع ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں اب تک 53 افراد جان سے جاچکے ہیں، جن میں شجرہ طیبہ اسکول کی طالبات سمیت دیگر شہری بھی شامل ہیں۔
نمازِ جنازہ کے بعد تمام طالبات کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں شرکا نے مرحوم بچیوں کے لیے دعائیں کیں اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا مانگی۔