دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور علاقائی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے تجارتی بحری جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں اور حملوں کی پاکستان سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اعلیٰ حکام اور چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 18 جولائی کو کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح الصباح سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، کشیدگی میں کمی، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آسیان ریجنل فورم کے موقع پر منیلا میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، جنگ بندی، بین الاقوامی قانون، علاقائی امن، عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم آج کرغزستان پہنچیں گے، جہاں وہ ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دوران وہ کرغزستان کے صدر سے ملاقات اور رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ منیلا میں اسحاق ڈار نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشیا ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل لیہ گوٹیریز سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعاون، علاقائی روابط، تجارت، توانائی، ترقیاتی منصوبوں اور پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر گفتگو ہوئی۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم نے 16 اور 17 جولائی کو شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، تحقیق اور استعداد کار بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ملاقات کی، جس میں سی پیک، تجارت، علاقائی روابط، شنگھائی تعاون تنظیم اور پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے 20 جولائی کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جو تقریباً دو دہائیوں بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔ اس دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تعاون، عوامی روابط اور علاقائی امور پر بات چیت کی، جبکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کینولا کی درآمد سے متعلق فائٹو سینیٹری پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو فروغ ملے گا۔