نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ آسیان ریجنل فورم (ARF) کے 33ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون پر مبنی نظام کا مضبوط حامی ہے۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر فلپائن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیا میں دوستی و تعاون کے معاہدے کے بنیادی اصولوں، یعنی باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے منیلا پلان آف ایکشن (2026-2036) کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی بین الاقوامی اداروں اور قانون پر مبنی عالمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی و توانائی کے تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور صحت عامہ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے پانی اور روزگار کو خطرات لاحق ہیں۔
اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی، اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد اور بعد ازاں برگن اسٹاک میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں پر تجارتی سرگرمیاں معمول پر آسکیں۔
غزہ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ میں انسانی بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دہشت گردی کے موضوع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا ملک رہا ہے اور اس نے 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہی ہیں۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، جبکہ آسیان ریجنل فورم کے رکن ممالک سے بھی اس ضمن میں تعاون کی اپیل کی۔
یوکرین تنازع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور طاقت کے استعمال سے گریز کے اصولوں کا حامی ہے اور اس تنازع کا واحد پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔
جنوبی بحیرۂ چین سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے اور “ون چائنا پالیسی” پر اپنے غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصول کے تحت موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔
خطاب کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے مقاصد اور اصولوں کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور خطے میں امن، خوشحالی، باہمی احترام اور جامع تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔