وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں پہلا صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز قائم کیا جائے گا، جو صنعت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ہارون اختر نے کہا کہ حکومت کی صنعتی پالیسی کے تحت صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کا قیام اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا مرکز جدید صنعت، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا، جس سے اختراعی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداوار، معیار اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا، جبکہ پاکستان کو جدید صنعتی ٹیکنالوجی اور اے آئی کے عالمی نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوان انجینئرز، محققین اور صنعتکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا، صنعتی شعبے کی مسابقت میں اضافہ کرے گا اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
ہارون اختر کا کہنا تھا کہ صنعت، تحقیق اور تعلیم کے درمیان مضبوط اشتراک ہی پائیدار معاشی استحکام کی بنیاد ہے، اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔