وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف زرعی و فوڈ پراسیسنگ کمپنی فیمسن (FAMSUN) کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین (Jack Chen) کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، گرین سائلوز اور اجناس کے جدید اسٹوریج مراکز کے قیام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری اس تاریخی دوستی کو مزید مستحکم کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے موجودہ اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ مضبوط ہوگا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ان منصوبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی ہنرمندی، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ مقامی افراد جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔
فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ کے شعبے میں قابلِ عمل منصوبوں پر پیش رفت کی جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے جدید اسٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی تربیت میں دلچسپی رکھتی ہے۔
ملاقات کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے لیے ایک ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی، جبکہ موجودہ اسٹوریج مراکز کو جدید گرین سائلوز میں تبدیل کیا جائے گا۔ بریفنگ کے مطابق فیمسن اور گرین پاکستان انیشیٹو کے درمیان اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر پہلے ہی دستخط کیے جاچکے ہیں۔
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔
واضح رہے کہ فیمسن چین کی زرعی ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں کام کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جو جدید زرعی انفراسٹرکچر اور غذائی تحفظ کے منصوبوں میں عالمی سطح پر تجربہ رکھتی ہے۔