عراقی حکام نے مالیاتی فراڈ سے متعلق ایک کیس میں 1 ارب 14 کروڑ سے زائد عراقی دینار (تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر) برآمد کرلیے، جبکہ سابق نائب وزیرِ تیل عدنان الجمیلی کے خلاف جاری بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں مزید 13 ارب عراقی دینار، 4 لاکھ امریکی ڈالر، 40 کلوگرام سونے کی اینٹیں اور 5 کلوگرام سونے کے زیورات بھی ضبط کر لیے گئے۔
سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے مطابق کرخ سیکنڈ انویسٹی گیٹو کورٹ نے نقد رقم کی اسمگلنگ میں ملوث کمپنیوں کے فراڈ سے یہ فنڈز برآمد کیے ہیں۔ گزشتہ روز عمل میں لائی گئی مذکورہ کارروائی عراقی نیشنل سیکیورٹی سروس کے اس آپریشن کا تسلسل ہے جس کے تحت ملک بھر میں کرنسی اسمگلنگ کے کئی نیٹ ورکس کو تباہ کیا گیا تھا، اور غیر قانونی طریقوں سے منافع کمانے والی باقی کمپنیوں کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔
یہ کارروائیاں عراق میں وزیراعظم علی الزیدی کی قیادت میں جون کے آخر سے شروع کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کی ملک گیر مہم "آپریشن ڈان" کا حصہ ہیں۔ اس مہم کے تحت درجنوں موجودہ و سابق اہلکاروں کو گرفتار کر کے عوامی فنڈز اور اثاثے برآمد کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی جج کے مطابق سابق نائب وزیرِ تیل برائے ریفائننگ امور عدنان الجمیلی سے متعلق بدعنوانی کے کیس کی کڑی میں صوبہ صلاح الدین کے متعدد مقامات پر چھپایا گیا سونا، ملکی و غیر ملکی کرنسی اور زیورات برآمد ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جرم سے حاصل ہونے والے اثاثوں کا سراغ لگانے اور نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید پھیلایا جا رہا ہے۔