بھارت میں خواتین کو ہراساں کرنے والے 150 سے زائد افراد کو پکڑوانے والا نوجوان ہیرو

image

بھارت کے شہر ممبئی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن دیپیش ٹانک نے خواتین کو محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے ایک ایسی مہم شروع کی جس نے نہ صرف ملک بھر میں توجہ حاصل کی بلکہ سینکڑوں خواتین کے لیے امید کی نئی کرن بھی ثابت ہوئی۔

دیپیش ٹانک نے 2013 میں "وار اگینسٹ ریلوے راؤڈیز" (WARR) کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کا مقصد ممبئی کی لوکل ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی میں پولیس کی مدد کرنا تھا۔

رپورٹس کے مطابق دیپیش ٹانک نے اپنی ذاتی رقم سے ایک خفیہ ایچ ڈی کیمرہ خرید کر اسے چشمے میں نصب کیا اور روزانہ ممبئی کی ویسٹرن، سینٹرل اور ہاربر ریلوے لائنوں پر سفر کرتے رہے۔ اس دوران وہ خواتین کو ہراساں کرنے، چھیڑ چھاڑ کرنے اور نازیبا حرکات کرنے والے افراد کی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کرتے اور بعد ازاں یہ شواہد گورنمنٹ ریلوے پولیس اور ریلوے پروٹیکشن فورس کے حوالے کر دیتے۔

ان شواہد کی بنیاد پر پولیس نے متعدد کارروائیاں کیں اور مختلف اوقات میں 150 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

دیپیش ٹانک کے مطابق انہیں اس مہم کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے ملاڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب چند نوجوانوں کو چلتی ٹرین کے دروازوں سے لٹک کر پلیٹ فارم پر کھڑی خواتین کو ہراساں کرتے اور نازیبا اشارے کرتے دیکھا۔ اس واقعے نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

انہوں نے مہم شروع کرنے سے پہلے خواتین مسافروں کے درمیان ایک سروے بھی کیا، جس میں بڑی تعداد میں خواتین نے بتایا کہ وہ خود ہراسانی کا شکار ہو چکی ہیں یا سفر کے دوران ایسے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں۔ سروے کے نتائج متعلقہ حکام اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی پیش کیے گئے۔

دیپیش ٹانک کی اس منفرد کوشش کو بھارت بھر میں سراہا گیا اور مختلف میڈیا اداروں نے انہیں ممبئی کے نمایاں سماجی کارکنوں میں شمار کیا۔ ان کی خدمات کو خواتین کے تحفظ اور شہری شعور بیدار کرنے کی ایک مؤثر مثال قرار دیا گیا۔

بعد ازاں دیپیش ٹانک نے روزانہ کی بنیاد پر خفیہ نگرانی کا سلسلہ محدود کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف انفرادی کوششوں سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مستقل اور مؤثر نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی انہیں کسی خاتون کو ہراساں کیے جانے کی اطلاع یا واقعہ نظر آئے گا، وہ متعلقہ حکام کو آگاہ کرتے رہیں گے۔

رپورٹس کے مطابق دیپیش ٹانک نے بعد ازاں انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھی کام کیا اور بہار میں خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو اسمگلروں سے آزاد کرانے میں بھی کردار ادا کیا۔ ان کی سماجی خدمات سے متاثر ہو کر "ڈیئر مین" کے نام سے ایک مختصر فلم بھی بنائی گئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US