نیویارک میں روزگار کی تلاش میں جانے والے ایک پاکستانی نوجوان کی زندگی لمحوں میں بدل گئی، جب دورانِ ڈکیتی مزاحمت کرنے پر مسافر نے اس کی گردن میں گولی مار دی۔ فائرنگ کے بعد نوجوان شدید زخمی ہوا اور اب وہ جزوی طور پر مفلوج ہونے کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق بروکلین میں رہنے والے 21 سالہ دانش سرور 11 جولائی کی صبح تقریباً 4 بج کر 15 منٹ پر اپنی ٹیکسی چلا رہے تھے۔ انہوں نے پارک سائیڈ ایونیو اور بیڈفورڈ ایونیو کے قریب ایک مقام سے مسافر کو بٹھایا لیکن سفر شروع ہونے کے چند ہی لمحوں بعد صورتحال اچانک خطرناک رخ اختیار کر گئی۔
رپورٹس کے مطابق دانش نے چند روز پہلے ہی اپنی نئی ٹویوٹا آر اے وی فور 2026 خریدی تھی۔ ان کے 30 سالہ بھائی حمزہ سرور نے بتایا کہ دانش ہفتے کے ساتوں دن مسلسل محنت کرتا تھا تاکہ امریکا میں کام کرنے کے ساتھ پاکستان میں موجود والدین اور دو بہنوں کے اخراجات بھی پورے کر سکے۔ وہ تقریباً تین سال قبل بہتر مستقبل کی امید لے کر امریکا آیا تھا اور اس کی زندگی کا زیادہ تر وقت محنت مزدوری میں گزرا۔
بھائی کے مطابق گاڑی بک کروانے والے ملزم نے پچھلی نشست پر بیٹھتے ہی اسلحہ نکال لیا، نقد رقم اور قیمتی اشیا کا مطالبہ کیا اور گاڑی چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر اس نے دانش کی گردن پر گولی چلا دی جس کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
شدید زخمی حالت میں دانش کو فوری طور پر کنگز کاؤنٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ہنگامی سرجری کی گئی۔ وہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں بے ہوش رہے تاہم اب انہیں ہوش آ چکا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق گولی لگنے سے ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی ہےجس کے باعث ان کا بایاں بازو اور ہاتھ کی انگلیاں حرکت نہیں کر رہیں اور وہ جزوی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں۔
حمزہ سرور کا کہنا ہے کہ دانش اب بات تو کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے ڈاکٹروں نے ان کے گلے میں خصوصی مائیکروفون نصب کیا ہے۔ وہ ابھی کھانا بھی نہیں کھا سکتے اور دل سے متعلق پیچیدگی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق دانش کی جان تو بچ گئی، لیکن مکمل صحت یابی کا سفر طویل اور مشکل دکھائی دے رہا ہے۔