امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کو ایران کے خلاف کارروائیاں ایک روز کے لیے روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف حملوں میں شدت لانے کا آپشن موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں زیادہ مؤثر حکمت عملی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ بڑے حملوں کی تیاری مکمل رکھے ہوئے ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال ایسی کسی کارروائی کی حتمی منظوری نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق اگر دوبارہ حملوں کا حکم جاری کیا جاتا ہے تو امریکی افواج مختصر نوٹس پر کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ حملے صرف ایک روز کے لیے مؤخر کیے گئے ہیں یا دونوں جانب کسی قسم کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ عمان کا ایک وفد جمعہ کے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق انتظامات پر بات چیت کے لیے تہران پہنچا، جہاں مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام تک کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ اطلاعات امریکی ویب سائٹ اور ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔