ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کے بقول، ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی 200 سے کہیں زیادہ ہے۔
جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خطے میں امریکا کے آٹھ فوجی مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک مقام پر قائم 20 حفاظتی شیلٹرز بھی تباہ کر دیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکومت بین الاقوامی صحافیوں کو ان فوجی تنصیبات کا دورہ کرائے تاکہ وہاں ہونے والے نقصانات کا خود جائزہ لیا جاسکے۔
اس سے قبل بھی جنرل حسین محبی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دو ہفتوں کے دوران امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 11 جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ کیے۔ ان کے مطابق تباہ ہونے والے فضائی اثاثوں میں 17 ڈرونز، ایک ایف-15 جنگی طیارہ، ایک پی-8 طیارہ، ایک سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور آٹھ ری فیولنگ ایئرکرافٹ بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ مذکورہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔