بھارتی طلبہ نے ’گودی میڈیا‘ کے پاکستانی ایجنٹ ہونے کے الزام کی حقیقت بتادی

image

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران ایک طالبہ کے بیان نے سرکاری بیانیے اور میڈیا کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی۔ نئی دلی کے جنتر منتر میں 23 روزہ بھوک ہڑتال کرنے والی طالبہ نیہا بورا نے کہا کہ جب کشمیر میں پیلٹ گن کے متاثرین یا دلی فسادات کے متاثرہ افراد کو "پاکستانی ایجنٹ" قرار دیا گیا تو بہت سے لوگوں نے اس دعوے کو سچ مان لیا، لیکن آج یہی الزام اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ پر لگایا جا رہا ہے، جس سے پرانے دعوؤں پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

نیہا بورا کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بروقت آواز اٹھائی جاتی تو شاید آج وہی طرزِ عمل دارالحکومت دلی کی سڑکوں تک نہ پہنچتا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال نے بہت سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو مسلسل ایک ہی الزام کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کیوں کی جاتی رہی۔

دوسری جانب نئی دلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال نے ایک مرتبہ پھر اس ہتھیار کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ اس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیش آنے والے ایسے ہی واقعات کی یاد بھی تازہ کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں افراد زخمی ہوئے، جن میں نوجوان، خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ متعدد متاثرین اپنی بینائی سے محروم ہوئے، جبکہ کئی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ نئی دلی کا حالیہ واقعہ اسی پس منظر میں انسانی حقوق اور طاقت کے استعمال سے متعلق ایک بار پھر اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US