ایران نے مبینہ طور پر اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزام پر تہران میں تعینات فرانسیسی سفیر کو طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ فرانسیسی سفیر کو تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارت کاروں کی سرگرمیوں کے حوالے سے طلب کیا گیا۔ ان کے مطابق ملاقات کے دوران فرانسیسی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گمراہ کن عنوانات کے تحت ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس نوعیت کی سرگرمیوں سے باز رہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں فرانسیسی سفارت کار سول سوسائٹی سے رابطوں کی آڑ میں ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے، جو ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق 20 جولائی کو سیکیورٹی فورسز نے دونوں فرانسیسی سفارت کاروں کو حراست میں لے کر کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی، جس کے بعد انہیں فرانسیسی سفارت خانے واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔
دوسری جانب حراست میں لیے گئے سفارت کاروں میں سے ایک نے الزام لگایا کہ دورانِ حراست اس کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کی گئی۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے اس واقعے کو دھمکی آمیز رویہ قرار دیتے ہوئے اسے انتہائی سنگین اقدام سے تعبیر کیا۔