امریکی حملے کے بعد قشم میں ریسکیو آپریشن، ملبے سے ایک اور بچے کو زندہ نکال لیا گیا

image

امریکی فضائی حملے کے بعد ایران کے جزیرے قشم میں امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں جہاں ملبے سے ایک اور بچے کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک تین بچوں کو محفوظ نکالا جا چکا ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں مزید دو لاپتا افراد کی تلاش میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ دوسری جانب حکام نے حملے میں تین افراد کی اموات کی بھی تصدیق کی ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی عمارت میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد رہتے تھے۔ امدادی کارکن بھاری مشینری اور دستی آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ دبے ہوئے افراد تک جلد پہنچا جا سکے۔ فارس نیوز کے مطابق زخمی ہونے والے دو بچے، جن کی عمریں 7 اور 9 سال ہیں، اسپتال میں زیر علاج ہیں اور انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک میاں، بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد قشم جزیرے میں فضا سوگوار ہے جبکہ متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

ادھر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے ایرانی میڈیا نے قشم اور جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات دی تھیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قشم کے چاہ تنگو علاقے میں واقع ایک رہائشی مکان براہِ راست حملے کی زد میں آیا۔ نیم سرکاری خبر رساں اداروں تسنیم اور پریس ٹی وی نے بھی رہائشی علاقے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قشم شہر میں تین زور دار دھماکے سنے گئے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر امریکی فوجی قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض اعلیٰ فوجی حکام مزید سخت بمباری کے حامی ہیں، جبکہ کچھ دفاعی عہدیدار فضائی دفاعی وسائل محفوظ رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

صرف فضائی کارروائیاں ہی نہیں بلکہ امریکا نے ایران کے گرد بحری دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اب تک 20 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو جہاز واپس بھیجے گئے جبکہ دو تجارتی جہازوں کی تلاشی بھی لی گئی۔

اس دوران ایک اور پیش رفت میں برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبرے نے دعویٰ کیا کہ مصر کی بندرگاہ دمیاط میں امریکی ملکیت کے گیس ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم مصری وزارتِ پیٹرولیم نے صرف بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔ حکام نے نہ تو ڈرون حملے کی تصدیق کی اور نہ ہی کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکا مزید طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام میزائل ناکام بنا دیے اور کارروائیاں عراقی حکومت سے رابطے کے بعد کی گئیں۔ ٹرمپ نے ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ بھی دیا۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی ایران نے عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز مسترد کر دی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا نہایت اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

تازہ امریکی حملوں، بحری ناکہ بندی میں اضافے، ایران کے جوابی اقدامات اور دونوں ممالک کے سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بدلتی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ آئندہ چند دن اس تنازع کے رخ کا تعین کر سکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US