بی جے پی رہنماؤں کے بچے بھی مودی سرکار کے خلاف طلبہ احتجاج میں شامل

image

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں اور میرٹ کی پامالی کے خلاف شروع ہونے والی 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کی احتجاجی تحریک میں برسرِ اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں کے بچوں نے بھی شامل ہونا شروع کردیا ہے۔ سی جے پی کی قیادت میں جاری اس طلبہ احتجاج میں بی جے پی رہنماؤں کے بچوں نے مظاہرین کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان رہنماؤں کے بچوں میں اتر پردیش کے سابق بی جے پی رکن اسمبلی وکرم سنگھ کی بیٹی اور کانٹینٹ کریئیٹر یشاسوینی راجے سنگھ شامل ہیں، جنہوں نے دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے ساتھ احتجاج میں شرکت کی۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یشاسوینی نے بھارت کے وزیر تعلیم پرلہاد جوشی پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو حقیقی ندامت کے بجائے خود کو قربانی کا بکرا ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے سیاسی ماحول سے الگ تھلگ اور مالی طور پر خود مختار ہیں، اور سی جے پی نے میمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر سیاسی نوجوانوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسی تحریک کے دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی کی بیٹی ارچیتا سچن رہار نے بھی سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اگرچہ ان کا خاندان دھرمیندر پردھان کے ساتھ ہے لیکن وہ خود طلبہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔

علاوہ ازیں، آسام کے وزیرِ محصولات کشیب مہانتا کی بیٹی دبیسا مہانتا بھی احتجاجی ریلیوں میں شریک ہوئیں اور مظاہرین کے ساتھ مل کر اپنے والد کے استعفے کا مطالبہ کرتی نظر آئیں۔ اس معاملے پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کشیب مہانتا کو ان کی بالغ بیٹی کے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے کیونکہ بالغ بچوں کے فیصلے ان کے والدین سے منسلک نہیں کیے جاسکتے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US