ایران نے امریکا اور اسرائیل کو اہم انفرا اسٹرکچر پر کسی بھی ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارحیت کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ جارحیت کرکے بھاگنے کا دور ختم ہو چکا ہے، امریکا اور اسرائیل اگر کسی غلط اندازے کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہیں تو اس کے نتائج انہیں بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ ان کے فوجی ساز و سامان میں کفن بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس نہ صرف مکمل صلاحیت موجود ہے بلکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بھی تیار ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تازہ حملوں کی منظوری دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ ممکنہ حملے ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتے ہیں اور کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت انہیں مسلسل اشتعال دلا رہی ہے اور ان کا یہ اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی مؤثر معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا، غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔