ٹیکساس کی خوبصورت وادیوں میں رہنے والی ڈیانا، جو ہسپانوی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، بظاہر ایک عام اور پرسکون زندگی گزار رہی تھی لیکن ان کے اندر ایک تڑپ تھی۔ ایک ایسی تڑپ جو انہیں بچپن سے ہی خالقِ کائنات کے سچے تصور کی تلاش پر مجبور کرتی تھی
وہ کیتھولک ماحول میں بڑی ہوئیں، لیکن دل ہمیشہ کسی ایسی حقیقت کا پیاسا تھا جو عقل اور روح دونوں کو مطمئن کر سکےچھٹی جماعت میں انہوں نے پہلی بار اسلام کے بارے میں سنا تھا۔ وہ بتاتی ہیں میں تب سے ہی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے بہت متجسس تھی، لیکن جب میں چھوٹی تھی تو میرے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ میں اسلام کو ٹھیک سے سمجھ پاتی۔وقت گزرتا گیا اور جب ڈیانا یونیورسٹی گئیں، تو وہاں ان کی ملاقات کچھ مسلمان دوستوں سے ہوئی اور انہوں نے 'مذاہب کے مطالعے' کا ایک کورس بھی لیا، جس نے ان کے ذہن کے بند دروازے کھول دیے۔ وہ اسلام کی سادگی، قرآن کی منطق اور اللہ کے ایک ہونے کے تصور کے سحر میں جکڑی چلی گئیں یہ محبت صرف کتابوں تک محدود نہ رہی، بلکہ انہوں نے اسلام کو جینا شروع کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں: "تقریباً دو سال پہلے میں نے باقاعدہ اسلام پر عمل کرنا شروع کیا اور پچھلے سال پہلی بار میں نے مسجد کا رخ کیا۔اس دوران انہوں نے ایک عیسائی ہونے کے باوجود ماہِ رمضان کے روزے رکھے، گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں مانگیں اور اپنی زندگی میں وہ سکون پایا جو انہیں پہلے کبھی نہ ملا تھا۔
وہ کہتی ہیں میں نے رمضان میں روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں، اور اس سال پہلی بار عید بھی منائی۔پھر وہ تاریخی اور جذباتی لمحہ آیا جب ڈیانا نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا وہ صرف اکیلی نہیں تھیں، بلکہ ان کی دونوں بیٹیاں بھی ان کے اس فیصلے میں ان کے ساتھ تھیں وہ ٹیکساس کی ایک مسجد میں گئیں، جہاں ان کے گرد مسلم خواتین کا ایک ہجوم تھا، مائیک ہاتھ میں لیے، انہوں نے نم آنکھوں اور کانپتی ہوئی مگر پرعزم آواز میں ہسپانوی اور انگریزی زبان میں اپنے ایمان کی گواہی دی میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔
جب انہوں نے کلمہ شہادت مکمل کیا، تو مسجد "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھی۔ وہاں موجود خواتین نے آگے بڑھ کر ڈیانا اور ان کی بیٹیوں کو گلے سے لگا لیا اور انہیں تحائف دیے. ڈیانا کے چہرے پر موجود مسکراہٹ اور آنکھوں سے بہتے ہوئے خوشی کے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ برسوں کی پیاسی روح کو بالآخر اپنا ٹھکانہ مل گیا ہے۔ ان کی یہ ویڈیو جب سوشل میڈیا پر آئی، تو دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے دل بھر آئے اور سب نے ان کے لیے استقامت کی دعائیں کیں۔