دنیا کی دو بڑی تیل کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ جاری جنگ، توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں ایندھن کے محدود ذخائر کے باعث رواں سال کے دوسرے نصف حصے میں ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔
کمپنیوں کے مطابق بعض بڑے برآمد کنندگان کی جانب سے سپلائی میں کمی اور مختلف ریفائنریوں میں فنی مسائل کے باعث عالمی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بیانات کے مطابق دونوں کمپنیوں نے دوسری سہ ماہی کے دوران ریفائننگ کے شعبے میں نمایاں مالی نتائج حاصل کیے۔ ایک کمپنی نے ڈیزل کی ریکارڈ پیداوار کا دعویٰ کیا، جبکہ دوسری نے اپنی ریفائنریوں میں یومیہ 10 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل پراسیس کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خام تیل کی عالمی سپلائی مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی اور بین الاقوامی شپنگ راستے بحال نہیں ہوتے، ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور صارفین دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔