بھارتی پولیس کا نئی دہلی میں مظاہرین پر پیلٹ گن استعمال کرنے کا انکشاف

image

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ نئی دہلی میں ہونے والے “کاکروچ جنتا پارٹی” کے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کی جانب سے پیلٹ گن استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخمی مظاہرین کے زخموں کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی ماہرین نے ان نشانات کو پیلٹ گن سے فائر کیے گئے چھروں کے زخم قرار دیا ہے۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بیلسٹک فرانزک ماہر فلپ بوائس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کے جسم پر موجود زخم واضح طور پر پیلٹ گن کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی ایک زخمی مظاہرے سے ملاقات کے بعد پولیس پر پیلٹ گن استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے کم از کم چار ایسے کیسز کا جائزہ لیا جن میں مظاہرین کو مبینہ طور پر پیلٹ گن سے لگنے والے زخموں کا علاج فراہم کیا گیا۔ فلپ بوائس کے مطابق دستیاب تصاویر سے بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے 12 گیج پمپ ایکشن شاٹ گن استعمال کی، جبکہ برڈ شاٹ (چھروں) سے لگنے والے زخم نہایت خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں آرمامنٹ ریسرچ سروسز (ARES) کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی تصاویر برڈ شاٹ کے استعمال سے “بہت حد تک مطابقت رکھتی ہیں”۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے زخم متاثرہ افراد میں مستقل معذوری کا باعث بن سکتے ہیں، بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور جسم میں زہریلے سیسے کے ذرات بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں زخمی ہونے والے دو مظاہرین کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ایک سینئر اسپتال عہدیدار نے تصدیق کی کہ متاثرین کے زخم “پیلٹ نما چھوٹے ذرات” لگنے کے باعث ہوئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان الزامات پر بھارتی حکام کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US