پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران بے ضابطگیاں ہوئیں، جبکہ صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔
مظفرآباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے رہنما چوہدری عبدالمجید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انتخابات کے آغاز سے ہی کشیدگی اور امن و امان کی خراب صورتحال برقرار رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات تین مراحل میں کرائے گئے، جن پر پارٹی کو تحفظات تھے، تاہم اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے جمہوری عمل میں حصہ لیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے پہلے ہی خدشات سے متعلق نشاندہی کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود چوہدری لطیف اکبر پر ان کے حلقے میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ایک کارکن بھی جاں بحق ہوگیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے انتخابی انتظامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر عملہ تاخیر سے پہنچا، جبکہ بعض مقامات پر انتخابی عملہ مخصوص افراد کے ہمراہ گیا اور مبینہ طور پر بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایل اے 28 میں تین یونین کونسلوں تک انتخابی سامان ہی نہیں پہنچ سکا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر انتخابی عمل کے انعقاد پر ہی تنازع کھڑا ہو جائے تو نئی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بننے والی حکومت پر عوامی اعتماد قائم کرنا مشکل ہوگا، جبکہ آزاد کشمیر کا انتخابی مینڈیٹ پیپلز پارٹی سے چھین لیا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں اور پرتشدد واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال ہوسکے۔