امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ تباہ کن کارروائی سے قبل ایران کو آخری موقع دینا چاہتے ہیں تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت اس کی درخواست پر ہو رہی ہے جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے بہتر معاہدے پر دستخط کرنے کا یہ آخری موقع ہو سکتا ہے اور امید ہے کہ تہران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے کسی قسم کی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ بحری آمدورفت برقرار رہنی چاہیے اور اگر کوئی فیس وصول کرے گا تو وہ امریکا ہوگا کیونکہ مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ناکہ بندی کی صلاحیت موجود ہے تاہم فیس وصول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔