امریکا کی ریاست اوریگن کے 13 سالہ طالب علم روئے کم نے پانی کی قلت اور قحط سالی جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد مشین (چیمبر) تیار کر لی ہے، جو فضا میں موجود نمی کو پانی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وٹ فورڈ مڈل اسکول کے طالب علم کی اس جدید ایجاد کا بنیادی مقصد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے متبادل ذریعہ فراہم کرنا ہے۔ اسی اختراعی منصوبے کی بدولت روئے کم کو 2026 تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج کے ٹاپ 10 فائنلسٹس میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
مشین ایک خصوصی الیکٹرانک نظام کے ذریعے کام کرتی ہے، جو بجلی ملنے پر ایک جانب گرم اور دوسری جانب انتہائی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر داخل ہونے والی ہوا کو پہلے معمولی گرم کیا جاتا ہے، پھر پنکھے کی مدد سے ٹھنڈی سطح تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں نمی پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
تیار ہونے والا پانی ایک مخصوص نظام کے ذریعے جمع کرکے نالیوں کے ذریعے پودوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ مشین میں نصب مٹی کی نمی اور موسمی حالات جانچنے والے سینسر خودکار طور پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پودوں کو کب اور کتنی مقدار میں پانی درکار ہے، جس سے پانی کے ضیاع میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
ابتدائی آزمائش کے دوران یہ مشین دو گھنٹوں میں 10 ملی لیٹر پانی تیار کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی 135.8 گرام فی کلو واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں پانی کے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں فضا سے پانی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں زراعت کے شعبے کے لیے امید افزا متبادل ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے مزید تحقیق اور تکنیکی بہتری کی ضرورت ہوگی۔