یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں سوٹ کیس سے ملنے والی سکاٹش خاتون الزبتھ جین راس کے قتل کے معمہ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں یونانی پولیس نے قتل کے الزام میں 26 سالہ افغان شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم باکسنگ سے بھی وابستہ ہے اور مقتولہ کی رہائش گاہ کے قریب ملازمت کرتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، بینک ریکارڈز اور دیگر فرانزک شواہد کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری ممکن ہوئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے خاتون کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ایک سوٹ کیس میں بند کیا اور ایتھنز کے علاقے کیپسیلی میں واقع ایک لاوارث عمارت میں پھینک دیا تاکہ واردات کے شواہد چھپائے جاسکیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ خاتون کی موت کے بعد اس کے بینک کارڈ استعمال کیے گئے اور مختلف اے ٹی ایمز سے رقم نکلوائی گئی، جس نے تفتیش کا رخ ملزم کی جانب موڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ مقتولہ کے موبائل فون سے اس کے اہل خانہ کو متعدد پیغامات بھیجے گئے، جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ خیریت سے ہیں اور کچھ عرصہ تنہائی میں رہنا چاہتی ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات ممکنہ طور پر پولیس اور اہل خانہ کو گمراہ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
یونانی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کے دیگر پہلوؤں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔