بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والی ساوینا پردھان کی زندگی کی کہانی ان خواتین کے لیے مثال بن گئی جو گھریلو تشدد، غربت اور مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ شدید مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخرکار مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن (ایم پی پی ایس سی) کا امتحان پاس کرکے پی سی ایس افسر بننے میں کامیاب ہو گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ساوینا پردھان ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں جہاں غربت اور مشکلات ان کے بچپن کا حصہ تھیں۔ تاہم تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہر مشکل پر بھاری ثابت ہوا۔ وہ اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔
رپورٹس کے مطابق صرف 16 سال کی عمر میں ان کی شادی کر دی گئی، جس کے بعد ان کے مطابق ان کی زندگی کے مشکل ترین دن شروع ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سسرال میں انہیں بوجھ سمجھا جاتا تھا، دن بھر کام کروایا جاتا اور کئی مرتبہ مناسب کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا۔
ساوینا پردھان نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا، "مجھے اتنی بھوک لگتی تھی کہ میں روٹیاں اپنے کپڑوں میں چھپا کر واش روم میں جا کر خاموشی سے کھاتی تھی۔"
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ معمولی باتوں پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ان کے مطابق، "میرے شوہر نے مجھ پر پیشاب کیا، بچوں کے سامنے مجھے مارا پیٹا، لیکن میں ٹوٹی نہیں۔"
ساوینا کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنے والدین کو حالات سے آگاہ کیا تو انہیں یہ کہہ کر صبر کرنے کا مشورہ دیا گیا کہ "بچہ ہونے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔" تاہم ان کے مطابق حالات میں کوئی بہتری نہ آئی اور نہ ہی انہیں شوہر یا والد کی جانب سے کوئی عملی تعاون ملا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچنے لگیں، لیکن اسی لمحے ان کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ ان کے بقول، "میں ان لوگوں کی وجہ سے کیوں مروں؟" یہی سوچ ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔
اس کے بعد ساوینا پردھان اپنے بچوں کے ساتھ سسرال چھوڑ کر نکل آئیں۔ انہوں نے گزر بسر کے لیے بیوٹی پارلر میں کام کیا، بچوں کو ٹیوشن پڑھائی اور ساتھ ہی اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر دی۔ انہوں نے افسر بننے کا خواب دیکھا اور دن رات محنت سے پڑھائی کی۔
رپورٹس کے مطابق ساوینا نے کسی کوچنگ سینٹر کی مدد لیے بغیر مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور آج وہ پی سی ایس افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ساوینا پردھان کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی صرف ایک سرکاری امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا۔ ان کے بقول، "میری سب سے بڑی جیت امتحان نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب میں نے خود کو چننے کا فیصلہ کیا۔"