شمالی یارکشائر کے علاقے ہاروگیٹ میں قائم برطانوی فوجی تربیتی کالج میں کم عمر خواتین اہلکاروں کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراسانی اور بدسلوکی کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق زیرِ تربیت رہنے والی چار خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 سال کی عمر میں دورانِ تربیت انہیں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک متاثرہ خاتون کے مطابق انہیں کئی ساتھی اہلکاروں نے گھنٹوں قید رکھ کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ دیگر خواتین نے بھی ادارے میں جنسی نفرت اور تضحیک آمیز ماحول کی تصدیق کی ہے۔
شمالی یارکشائر پولیس کے مطابق ایک سال کے دوران اس کالج سے متعلق جنسی حملوں اور غیر اخلاقی حرکات کی 16 شکایات ملیں، جبکہ برطانوی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2018ء سے جون 2025ء تک نامناسب جنسی رویوں کی کل 176 شکایات درج ہوئیں۔ ان میں سے 32 الزامات سینئر عملے اور 144 زیرِ تربیت نوجوان فوجیوں پر لگائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق بعض تربیتی افسران بھی خواتین اہلکاروں پر نامناسب تبصرے کرتے تھے، جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران چند اہلکاروں کو جنسی و جسمانی تشدد پر فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔
اس اسکینڈل پر برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایما لیویل نے معاملے کی فوری آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی فوج نے ان الزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناقابلِ قبول رویوں کی فوج میں کوئی جگہ نہیں اور اس حوالے سے شکایات کا آزادانہ نظام اور اصلاحات قائم کر دی گئی ہیں۔