مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین میں جاری جنگوں کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی سپلائی متاثر ہونے لگی ہے، جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما کے دوران ایندھن کی طلب میں متوقع اضافے سے صورتحال مزید تشویشناک ہونے کا امکان ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں، خلیج فارس کی ریفائنریوں کو ہونے والے نقصانات اور روسی تیل تنصیبات پر یوکرینی حملوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور روس گزشتہ سال عالمی ڈیزل برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کر رہے تھے، تاہم خطے میں جاری جنگی حالات کے باعث ان اہم ذرائع سے ڈیزل کی برآمدات محدود ہوگئی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ خلیج فارس میں ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات نے پیداوار اور برآمدی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں سے بھی روس کی جانب سے عالمی منڈی کو ڈیزل کی فراہمی میں کمی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ڈیزل سمیت مختلف ایندھن کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث موجودہ سپلائی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ڈیزل ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، صنعتی آلات، ٹرکوں اور بسوں سمیت مختلف شعبوں میں بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے عالمی سپلائی میں کمی سے نہ صرف توانائی کی مارکیٹ بلکہ نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی اور بڑی تیل پیدا کرنے والی تنصیبات سے برآمدات معمول پر نہ آسکیں تو آنے والے مہینوں میں عالمی ڈیزل مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔