پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان نئے دفاعی معاہدے پر اسرائیلی حکومت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے امورِ تارکین وطن نے مکہ میں ہونے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے کی پیش رفت اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے اور اس کے مستقبل میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے، تاہم ترکیے کی شمولیت سے اس تعاون کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ترکیے کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں، اس لیے تینوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دو روز قبل سعودی شہر مکہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ کسی ایک ملک کو درپیش بڑے سیکیورٹی خطرے کی صورت میں دیگر دونوں ممالک بھی اسے مشترکہ دفاعی معاملہ سمجھیں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس سے قبل بھی دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود تھا، تاہم ترکیے کی شمولیت کے بعد یہ تعاون تین ملکی دفاعی شراکت داری کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے مسلم دنیا کے اہم ممالک ہیں اور تینوں کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل اور ترکیے کے درمیان سیاسی و سفارتی اختلافات، بالخصوص غزہ کی صورتحال پر دونوں ممالک کے مختلف مؤقف، بھی اسرائیلی تشویش کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے اس معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد قرار نہیں دیا بلکہ اسے باہمی دفاع اور علاقائی سلامتی کے تعاون کے طور پر پیش کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حقیقی اہمیت اس کے عملی نفاذ، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات سے واضح ہوگی۔