ٹرمپ کا خفیہ فوجی طیارے سے سفر، سیکیورٹی پر سوالات اٹھ گئے

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے طیارے کے بجائے واپسی پر مبینہ طور پر ایک خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے سفر کیا، جس کے بعد نئے طیارے کی سیکیورٹی اور صدر کے سفری انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ مبینہ ایرانی قاتلانہ حملے کے خطرے کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے ترکیہ سے برطانیہ روانگی کے لیے خفیہ طور پر امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے کا استعمال کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ تاثر برقرار رکھا گیا کہ صدر ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں موجود تھے۔ واپسی کے موقع پر وہ ابتدا میں کیمروں کی موجودگی میں پرانے ماڈل کے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، تاہم بعد میں انہیں ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے تک منتقل کیا گیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق C-32A طیارہ برطانیہ کے لیے روانہ ہوا اور تقریباً رات 10 بج کر 20 منٹ پر وہاں پہنچا، جبکہ ایئر فورس ون اور میڈیا کو لے جانے والا طیارہ بھی چند منٹ بعد برطانیہ پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس دوران ایئر فورس ون کو بطور ڈیکائے استعمال کیا گیا تاکہ صدر کی اصل موجودگی کو خفیہ رکھا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی کئی گھنٹوں تک یہی معلوم تھا کہ صدر ٹرمپ ایئر فورس ون میں موجود ہیں، جبکہ ان کا اصل مقام خفیہ رکھا گیا تھا۔

ٹرمپ نے اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ وہ انقرہ سے برطانیہ کے آر اے ایف ملڈن ہال تک سفر کے لیے پرانے ہلکے نیلے رنگ کے ایئر فورس ون طیارے کو استعمال کریں گے، جبکہ نیا طیارہ بھی اسی اڈے پر موجود رہے گا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اہلکار اس کا دورہ کرسکیں۔

خفیہ طور پر تیسرے طیارے کے ذریعے صدر کے سفر کی اطلاعات پر وائٹ ہاؤس سے مؤقف طلب کیا گیا تو کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ کا بیان جاری کیا گیا۔

اسٹیو چیونگ نے کہا کہ قطر کی جانب سے دیے گئے طیارے میں اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی پروٹوکول نصب کیے گئے ہیں جو صدر اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا کے متعدد دشمن ہیں جن کی نظریں ان پر مرکوز ہیں، اس لیے انتظامیہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US