ٹرمپ کو بٹن دبا کر جگانے والی ویڈیو کا راز کیا ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ایک دلچسپ مگر بے بنیاد دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جس میں ایک ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے قریب موجود ایک خاتون ان کے سو جانے پر اپنے پیٹ میں چھپا ایک بٹن دباتی ہیں اور یوں صدر دوبارہ جاگ جاتے ہیں۔

فیکٹ چیک میں سامنے آیا ہے کہ یہ کہانی حقیقت نہیں بلکہ ایک پرانے سوشل میڈیا مذاق اور مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ویڈیو کا امتزاج ہے۔ وائرل کلپ میں دکھائی دینے والی صورتحال کو حقیقی واقعہ بنا کر پیش کیا گیا، حالانکہ اس دعوے کا کوئی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں۔

اس مزاحیہ کہانی کی جڑ ایک پرانی ویڈیو میں ملتی ہے، جس میں ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ایک شخص کی ناف معمول سے زیادہ ابھری ہوئی نظر آئی تھی۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو مذاق کا موضوع بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس شخص کے پیٹ پر ایک خفیہ بٹن موجود ہے، جسے دبا کر ٹرمپ کو جگایا جاتا ہے۔ بعد میں اس فرضی ڈیوائس کو ’’دی زیپر‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے پیچھے موجود شخص رون گراف سینئر تھے، جو اوہائیو کی ایک سپر مارکیٹ چین کے شریک مالک تھے۔ ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی ناف کا ابھار کسی خفیہ بٹن یا ڈیوائس کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وہ امبلیکل ہرنیا میں مبتلا تھے۔

اب اسی پرانے مذاق کو اے آئی کی مدد سے بنائی گئی نئی ویڈیو کے ذریعے دوبارہ سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا۔ اس بار رون گراف کی جگہ ایک خاتون دکھائی گئی اور اس کے پیٹ پر موجود مبینہ ’’بٹن‘‘ کو ٹرمپ کو جگانے والی فرضی کہانی کا حصہ بنا دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون جیمی لیگ فرینکلن نے خود اس دعوے کی حقیقت واضح کردی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا: ’’میں صرف حاملہ ہوں، او عجیب لوگوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ہنستے ہوئے ایموجیز بھی استعمال کیے، جس سے واضح تھا کہ وہ اس عجیب و غریب قیاس آرائی کو مذاق ہی سمجھتی ہیں۔

یوں ٹرمپ کو کسی خفیہ بٹن سے جگانے کی کہانی نہ صرف بے بنیاد نکلی بلکہ اس کے پیچھے موجود ’’بٹن‘‘ بھی حقیقت میں ایک پرانے انٹرنیٹ میم سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US