دنیا کے مختلف ممالک میں مکمل اور جزوی سورج گرہن کا شاندار نظارہ کیا گیا، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں افراد کھلے مقامات پر جمع ہوئے۔ کئی علاقوں میں گرہن کے باعث دن کے وقت ہی اندھیرا چھا گیا اور فضا غیر معمولی منظر پیش کرنے لگی۔
پاکستانی وقت کے مطابق سورج گرہن کا آغاز رات 8 بج کر 34 منٹ پر ہوا۔ یورپ میں گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور روس کے بعض علاقوں میں مکمل سورج گرہن دیکھا گیا، جبکہ فرانس، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں سورج جزوی طور پر گرہن زدہ رہا۔
یورپ میں 1999 کے بعد پہلی مرتبہ مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا گیا، جس کے باعث مختلف شہروں میں شہریوں اور سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کئی مقامات پر سورج گرہن کے باعث غروبِ آفتاب سے قبل ہی روشنی مدھم پڑ گئی اور دن میں رات کا سا منظر دکھائی دینے لگا۔
سورج گرہن دیکھنے کے لیے لوگوں نے خصوصی حفاظتی چشموں کا استعمال کیا۔ لندن کی رائل آبزرویٹری میں بھی سیکڑوں افراد جمع ہوئے، جہاں شہری کھانے پینے کا سامان ساتھ لائے اور گرینچ پارک میں پکنک کے انداز میں اس منفرد فلکیاتی منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
پراگ سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں جزوی سورج گرہن کے دوران آسمان کے رنگ اور روشنی میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ برمنگھم میں بھی شہریوں نے یورپی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران سورج گرہن کا نظارہ کیا جبکہ گرین لینڈ کے ساحل کے قریب ایک کروز شپ سے مکمل سورج گرہن کا خوبصورت منظر بھی دیکھا گیا۔
یورپ کے علاوہ افریقا، کینیڈا اور امریکا کے بعض علاقوں میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا گیا، جس نے مختلف خطوں میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔