ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے پاسداران انقلاب کی جارحانہ صلاحیتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی کے مطابق نئے فوجی ڈاکٹرائن کے تحت فورسز کو اس سطح پر تیار کیا جا رہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے علاقے میں بھی کارروائی کی جاسکے۔
ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں رضا نقدی نے کہا کہ مستقبل کی جنگ صرف ایرانی سرحدوں کے اندر رہ کر لڑنے تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ پاسداران انقلاب کو مخالف کی سرزمین تک کارروائی کرنے کی استعداد بھی حاصل کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی گئی تاہم یہ صلاحیت ایران کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا دفاعی بجٹ ایران کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ ہے، تاہم حالیہ تنازع میں ان کے بقول مخالف کے تمام 14 اہداف ناکام رہے۔ رضا نقدی کے مطابق نئے ڈاکٹرائن کا بنیادی مقصد ایران کو ایسی عسکری پوزیشن میں لانا ہے جہاں وہ صرف اپنے دفاع پر انحصار کرنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر جنگ کا دائرہ مخالف کے علاقے تک بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔