عالمی منڈیوں میں بھارتی زرعی برآمدات کو خوراک کے معیار، کیڑے مار ادویہ کی باقیات، جینیاتی تبدیلی اور پیداوار کی درست نگرانی سے متعلق مسائل کے باعث شدید اعتراضات کا سامنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان نے ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں پھلوں کو جراثیم اور کیڑوں سے پاک کرنے والے مرکز کے طریقۂ کار اور تصدیقی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے بھارتی آموں کی درآمد روک دی تھی۔
اس فیصلے کے تحت 25 مارچ کے بعد جاری ہونے والے معائنہ سرٹیفکیٹ رکھنے والی آموں کی تمام کھیپیں روک دی گئیں، جس سے الفانسو، کیسر، لنگڑا، بنگن پلی، چونسا اور ملّیکا سمیت 6 اقسام متاثر ہوئیں۔
واضح رہے کہ جاپان نے 1986ء میں بھی پھلوں کی مکھی کے خدشات پر بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی جو 2006ء میں معائنہ کے نظام کی بہتری کے بعد ختم کی گئی تھی۔ جاپان نے 2025ء سے 2026ء کے دوران بھارت سے تقریباً 1.54 ملین ڈالر مالیت کے آم درآمد کیے تھے۔ کاشتکاروں نے جاپانی معیار کے مطابق گریڈنگ، پیکنگ اور کیڑوں سے بچاؤ کے نظام پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی، تاہم اب وہ شدید گرمی، زیادہ کرائے اور برآمدی معاہدے منسوخ ہونے جیسے مسائل سے بھی دوچار ہیں۔
دیگر مصنوعات کی بات کی جائے تو چین نے 17 اپریل کو 3 بھارتی چاول برآمد کنندگان کے درآمدی اجازت نامے یہ دعویٰ کرتے ہوئے منسوخ کر دیے کہ ان کی کھیپوں میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزاء کے آثار ملے ہیں، حالانکہ برآمد کنندگان کے پاس جینیاتی تبدیلی سے پاک ہونے کے سرٹیفکیٹ موجود تھے۔
بھارت نے مالی سال 26-2025ء میں ریکارڈ 12.5 ارب ڈالر مالیت کے چاول برآمد کیے ہیں جو اس کی مجموعی زرعی برآمدات کا 20 فیصد سے زیادہ ہیں۔ چینی اعتراض کے بعد بھارت نے جینیاتی تبدیلی کی جانچ کے لیے منظور شدہ تجربہ گاہوں کی فہرست جاری کی، مگر سہولتوں کی کمی کی وجہ سے شمالی ریاستوں کے برآمد کنندگان کو نمونے سیکڑوں کلومیٹر دور بھیجنے پڑتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ہانگ کانگ نے کیڑے مار ادویہ کی باقیات ملنے پر بھارتی مصالحوں کی بعض مصنوعات پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ یورپی یونین نے بھی بھارتی زیرے کی جانچ کی شرح بڑھا کر 30 فیصد کردی ہے۔ یورپی نظام میں بھارتی مصالحوں سے متعلق 312 حفاظتی انتباہات سامنے آئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی کمزوری زرعی پیداوار کی کھیت سے لے کر برآمدی کھیپ تک مکمل نگرانی اور ریکارڈ کا فقدان ہے، کیونکہ کسانوں سے خریداری اور پراسیسنگ کے دوران ادویہ کے استعمال کی معلومات اکثر ضائع ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران منظور شدہ تجربہ گاہیں 22 سے بڑھ کر 89 اور برآمدی سرٹیفکیٹس 61 ہزار سے بڑھ کر 170 ہزار ہو چکے ہیں، تاہم یہ عالمی معیار سے ابھی بھی کم ہیں۔
بھارت دنیا کا دوسرا بڑا زرعی پیداوار کنندہ ہونے کے باوجود عالمی زرعی برآمدات میں صرف 2.4 فیصد حصہ رکھتا ہے اور اس کی زرعی برآمدات میں پراسیس شدہ مصنوعات کا حصہ صرف 17 فیصد ہے۔