امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے جس سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کو اقتصادی طور پر شدید نقصان پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن آئندہ ہفتے ایران کے خلاف ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا جن کی مثال پہلے نہیں ملتی۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانا ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی ہے اور اس کے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران ہی کرے گا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے اور موجودہ کشیدگی کے باعث یہاں بحری آمدورفت تقریباً رک چکی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔