ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، دونوں ممالک نے جہازرانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق کرلیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں، فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور پیشرفت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق 28 فروری تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، تاہم امریکا اور اسرائیل نے آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ علاقوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کا معاملہ الگ الگ ہیں۔ ان کے مطابق عمان کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، جن کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور کو طے کرنا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں مکمل جہازرانی بحال کرنے کا انحصار امریکا پر ہے۔ امریکا کو مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق تکنیکی مذاکرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔