جنوبی افریقا میں ایرانی سفارتخانے نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے عہدے سے علیحدگی کے معاملے پر ایک متنازع دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سفارتخانے کے مطابق کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہو کر استعفیٰ دیا، جبکہ ان کے استعفے کی وجہ خاندان کو وقت دینا نہیں تھی۔ ایرانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر لیویٹ کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور امریکی صدر کے ترکیہ سے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کے واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے طنزیہ تبصرہ کیا۔
سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جب باس دھوکا دے، آپ کو خطرے میں چھوڑ دے اور خود فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہو جائے تو رفاقت اور وفاداری سے متعلق تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ایرانی سفارتخانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کیرولین لیویٹ صدر ٹرمپ کے ترکیہ کے دورے کے دوران ان کے ساتھ موجود ہی نہیں تھیں، اس لیے طیارہ تبدیل کرنے کے واقعے کو ان کے استعفے کی وجہ قرار دینا درست نہیں۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ کیرولین لیویٹ اگست کے اختتام پر وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا عہدہ چھوڑ دیں گی۔ ان کے مطابق لیویٹ نے اپنے خاندان کو زیادہ وقت دینے کے لیے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی سفارتخانے کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کے ترکیہ سے خفیہ طیارہ تبدیل کرنے کے واقعے کی تفصیلات بھی عالمی میڈیا میں زیرِ بحث ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ ایرانی خطرے کے پیش نظر امریکی صدر کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک دوسرے فوجی طیارے تک منتقل کیا گیا تھا۔