جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ دہائیوں سے جاری کشیدگی ختم کرنے اور مستقل امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کردی۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو 1953 کی جنگ بندی کو باقاعدہ امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کی روش ترک کرکے پائیدار امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔
صدر لی جے میونگ نے یہ اعلان جزیرہ نما کوریا پر جاپانی قبضے کے خاتمے کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دونوں کوریائی ممالک ہر سال 15 اگست کو جاپانی تسلط سے آزادی کی یاد مناتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر کا کہنا تھا کہ مجوزہ مذاکرات کا بنیادی مقصد 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق کوریائی جنگ باضابطہ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے ذریعے ختم ہوئی تھی، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان آج تک مستقل امن معاہدہ نہیں ہوسکا۔
لی جے میونگ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کشیدگی میں کمی کے لیے پیشگی اور مستقل اقدامات کرے گا اور کسی بھی ممکنہ تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔
جزیرہ نما کوریا میں تقسیم اور نظریاتی اختلافات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد 25 جون 1950 کو شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کردیا اور کوریائی جنگ شروع ہوگئی۔
جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنوبی کوریا جبکہ چین اور سوویت یونین نے شمالی کوریا کی حمایت کی۔ تقریباً تین سال جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔
27 جولائی 1953 کو جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لڑائی روک دی گئی اور دونوں جانب کی افواج مقررہ سرحد کے قریب پیچھے ہٹ گئیں، تاہم مستقل امن معاہدہ نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی۔
شمالی کوریا ماضی میں بھی جنوبی کوریا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتا رہا ہے۔ پیانگ یانگ جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو اشتعال انگیز قرار دیتا ہے اور جنوبی کوریا کو اپنا بڑا دشمن قرار دے چکا ہے۔
جنوبی کوریا کی تازہ پیشکش کے بعد 1953 کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے اور جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔