ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہونی چاہیے۔
قطری نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے رجب طیب اردوان نے خطے میں جاری کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے سفارتی و ثالثی کوششوں میں قطر کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
ترک صدر نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ حال ہی میں اعلان کیے گئے مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے ’’محورِ مزاحمت‘‘ کو تسلیم کرلیا۔
باقر قالیباف کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکی صدر کا اصرار تھا کہ ایران اپنے میزائل اور جوہری پروگرام، مزاحمتی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کے معاملے کو مذاکرات سے الگ رکھے۔ تاہم ان کے بقول معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا نے اسی رات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ مذاکرات کا نتیجہ ایران کے مؤقف کے لیے اہم پیش رفت کی صورت میں سامنے آیا، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو معمول پر لانا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔