واٹس ایپ پر حساس دستاویزات شیئر کرنے سے شہریوں کو خبردار کردیا گیا

image

شہریوں کو واٹس ایپ کے ذریعے قومی شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ اور دیگر حساس دستاویزات شیئر کرنے میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ غیر ضروری یا غیر تصدیق شدہ دستاویزات بھیجنے سے ذاتی اور مالی معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قرض فراہم کرنے والے ایجنٹ، پراپرٹی ڈیلر، ہوٹل کا عملہ یا مختلف مالیاتی و دیگر خدمات سے وابستہ نمائندے شناخت کی تصدیق کے لیے بعض اوقات اہم دستاویزات واٹس ایپ پر طلب کرتے ہیں۔ بظاہر یہ معمول کی کارروائی محسوس ہوتی ہے، تاہم دستاویز بھیجنے سے پہلے متعلقہ فرد اور ادارے کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر شناختی کارڈ یا بینک اسٹیٹمنٹ بھیجے جانے کے بعد اس کی کاپی وصول کنندہ کے موبائل فون، کمپیوٹر یا کلاؤڈ بیک اپ میں محفوظ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں شہری کا اس بات پر کنٹرول نہیں رہتا کہ دستاویز کہاں اور کتنے عرصے تک محفوظ رہے گی۔

حساس معلومات اگر کسی ادارے کے باضابطہ اور محفوظ ڈیٹا سسٹم کے بجائے کسی فرد کے ذاتی فون نمبر پر بھیجی جائیں تو اس کی متعدد کاپیاں بننے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فون یا متعلقہ اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں یہ معلومات غیر متعلقہ افراد تک پہنچ سکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے شہریوں کو غیر ضروری کالز اور پیغامات کے علاوہ مالیاتی فراڈ اور شناخت کی چوری جیسے سنگین خطرات کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ حساس دستاویزات واٹس ایپ پر بھیجنے سے قبل متعلقہ ادارے اور نمائندے کی مکمل تصدیق کریں، ضرورت سے زیادہ معلومات شیئر نہ کریں اور جہاں ممکن ہو دستاویزات کے لیے ادارے کا باضابطہ اور محفوظ طریقہ استعمال کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US