سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے خطرناک گڑھے میں گریں گے، سسی پلیجو

image

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سابق صوبائی وزیر اور سینیٹر سسی پلیجو نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کی جانب سے نئے صوبے کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں رہنما جو کبھی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے، اب ایک دوسرے کے شدید مخالف ہونے کے باوجود اپنے آقاؤں کے اشارے پر سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کی باتیں اب برداشت سے باہر ہوچکی ہیں اور وہ اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہیں۔

سسی پلیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو سندھ کے عوام کا شکر گزار ہونا چاہیے، جنہوں نے قیامِ پاکستان کے وقت انہیں پناہ دی، اپنے دلوں میں جگہ دی اور ہر دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اردو بولنے والے تمام لوگوں کو سندھ کا اپنا حصہ سمجھتے ہیں اور یہاں بات تمام اردو بولنے والوں کی نہیں ہو رہی، بلکہ ایم کیو ایم میں موجود ان زہریلے عناصر اور مافیاز کی ہو رہی ہے جو سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیونکہ ہم اپنے وطن کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں، اور یہ گروہ اس وقت اسرائیل والی زبان بول رہا ہے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے اقتدار میں آنے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی پچاس ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی تھی، وہ بدمعاشی اور دھاندلی کے ذریعے ایوانوں تک پہنچی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ فارم 47 کے جھوٹ، مکاری اور جبر پر مبنی یہ نظام کب تک چل سکے گا۔ جو لوگ سندھ کے بٹوارے کی باتیں کر رہے ہیں، وہ جلد ہی ایک اندھے اور خطرناک گڑھے میں گرنے والے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے مزید کہا کہ سندھ صرف پاکستان کا ایک صوبہ نہیں بلکہ خطے کی قدیم ترین سندھو تہذیب کا گہوارہ اور تاریخی ثقافت کا مرکز ہے۔ اس کی شناخت اور عظمت کا احترام کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایم کیو ایم ہو یا کوئی وفاقی وزیر، اگر کسی نے بھی سندھ دشمنی کی بات کی تو ہم عوام کے شدید غم و غصے کو روک نہیں سکیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US