13 اگست کو، CENTCOM نے اعلان کیا تھا کہ اس نے فالکن سٹرائیک فورس کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ خطے کے ممالک کو اس فورس میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی لانگ رینج انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے میں کمی اور ان کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں پر دستخط کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے پہلی ’ملٹی نیشنل سٹرائیک ڈرون فورس‘ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
CENTCOM کے اعلان کے مطابق، یہ فورس ایسے ڈرونز پر مشتمل ہوگی جو آسمان اور پانی دونوں پر کام کرتے ہیں، اور اس میں امریکی افواج سمیت علاقائی شراکت دار بھی شامل ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان علاقائی شرکت داروں میں کون سے ممالک شامل ہیں۔
13 اگست کو، CENTCOM نے اعلان کیا تھا کہ اس نے فالکن سٹرائیک فورس کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ خطے کے ممالک کو اس فورس میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے۔
CENTCOM کے منصوبے کے مطابق، یہ فورس بغیر پائلٹ کے نظام یعنی ڈرونز کو استعمال کرے گی، اور اسے امریکہ اور خطے کے ممالک کے فوجی اہلکار مل کر چلائیں گے۔
تھنک ٹینکس اور متعدد میڈیا رپورٹس کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی جنگ نے امریکہ کے کچھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جنگی ہتھیاروں اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو کم کر دیا ہے۔ اگرچہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے پاس اب بھی آپریشن جاری رکھنے کے لیے ضروری اسلحہ موجود ہے۔ دوسری جانب جنگ کے دوران ایران کے حملوں نے خطے میں موجود عسکری اڈوں اور انفراسٹرکچر کی افادیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی میں دفاعی پروگرام کی ڈائریکٹر سٹیسی پیٹی جان نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ڈرونز نے طویل فاصلے تک حملے کرنا آسان بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق طویل فاصلے سے حملے براہ راست ہدف تک پہنچتے ہیں جس کے نتیجے میں سستے نظاموں نے حملہ آور کے حق میں توازن بدل دیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں تعینات کئی دفاعی نظام مہنگے اور نایاب ہیں۔
سینٹکام کے نئے منصوبے کو شاید اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے: جدید اور مہنگے میزائلوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ساتھ سستے جارحانہ نظام شامل کرنا۔
علاقائی افواج کے ساتھ بغیر پائلٹ کے نظام کو تعینات کرنے کی CENTCOM کی پہلی کوشش نہیں ہے۔ امریکی بحریہ نے ستمبر 2021 میں بحرین میں ٹاسک فورس 59 قائم کی۔ اس کا ابتدائی مشن آبنائے ہرمز سے باب المندب اور نہر سویز تک خطے کے پانیوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز (بغیر پائلٹ تیرتی گاڑیوں) کا استعمال اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنا تھا۔
امریکی بحریہ کے مطابق، اس یونٹ نے 2024 کے اوائل تک 23 سے زیادہ اقسام کے بغیر پائلٹ کے نظاموں کا تجربہ کیا اور 2023 کی مشق میں، اس نے بغیر پائلٹ کے نظام سے براہ راست گولہ بارود فائر کرنے کا تجربہ کیا۔
اسی سال اگست میں، پینٹاگون نے 18 سے 24 مہینوں کے اندر مسلح افواج میں نسبتاً سستے خودکار نظاموں کو ہزاروں کی تعداد میں متعارف کرانے کے لیے ریپلیکٹر پروگرام کا آغاز کیا۔
یہ پالیسی 2025 میں جاری رہی اور گزشتہ دسمبر میں، امریکی محکمہ جنگ نے دو سالوں میں تقریباً 340,000 چھوٹے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام تیار کرنے کے لیے $1 بلین مختص کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
اسی وقت، CENTCOM نے Scorpion Strike Force تشکیل دی، جسے مشرق وسطیٰ میں پہلی امریکی ڈرون فورس کے طور پر بیان کیا گیا۔
اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ملک سستے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر کے میزائل فائر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی سٹیسی پیٹی جان بھی اس عدم توازن کو نئی امریکی ڈرون فورس بنانے کی کوشش کی ایک وجہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ روس اور یوکرین کی جنگ اور ایران کے ساتھ لڑائی میں، کم قیمت والے ڈرون عسکری اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں، جب کہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے موجود بہت سے آلات مہنگے اور محدود تعداد میں ہیں۔
پیٹی جان کے مطابق، چھوٹے سسٹمز کو زیادہ تعداد میں تعینات کیا جا سکتا ہے اور ان کی تباہی سے ہونے والے نقصان کو زیادہ آسانی سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔
خطے میں امریکی ڈرون پروگرام میں سب سے نمایاں نظام لوکاس ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے مارچ 2026 کے اوائل میں اطلاع دی تھی کہ اس ڈرون کا ڈیزائن - جس کی قیمت CENTCOM نے فی یونٹ $35,000 بتائی ہے - ایران کے شاہد ڈرون سے متاثر تھا۔
لوکاس کو زمین، گاڑی، یا جہاز سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ CENTCOM کا کہنا ہے کہ یہ نظام ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری میں تعینات کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جون 2026 میں، ایک Corsair سمندری ڈرون کا استعمال ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کے عملے کے دو ارکان کو بچانے کے لیے کیا گیا تھا جو عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ CENTCOM کے ترجمان ٹم ہاکنز نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کرافٹ عملے کو اٹھا کر ایک اور مقام پر لے گیا، جہاں ہیلی کاپٹر موجود تھا۔"
ایک ماہ بعد، CENTCOM نے اعلان کیا کہ ایران کے بندر عباس بحری اڈے پر بحری جہاز اور آبدوز کی مرمت کی تنصیبات پر تین کورسیئرز نے حملہ کیا تھا اور اس آپریشن کو امریکی حملہ آور ڈرون کا پہلا جنگی استعمال قرار دیا گیا تھا۔
بڑے اڈے، بڑے مقاصد
خلیج فارس میں امریکی فوج کی موجودگی زیادہ تر چند بڑے اڈوں کے گرد مرکوز ہے۔ قطر میں عدید ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کا اہم مرکز ہے۔ پانچواں بحری بیڑا بحرین میں تعینات ہے اور کویت میں واقع ایک کیمپ امریکی زمینی افواج کے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔
کویت میں عارفجان بیس ایران سے تقریباً 100 کلومیٹر دور، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر تقریباً 205 کلومیٹر فاصلے پر جبکہ قطر میں العدید بیس ایران سے تقریباً 275 کلومیٹر دور ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کا کہنا ہے کہ یہ اڈے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران فائدہ مند تھے، لیکن جیسے جیسے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج اور درستگی میں اضافہ ہوا ہے، خلیج فارس میں بڑے امریکی اڈے مزید کمزور ہو گئے ہیں۔
سٹیسی پیٹی جان نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ایران کی جنگ نے ظاہر کیا ہے کہ زمین سے لانچ کیے جانے والے ڈرون سے لے کر کشتیوں اور بغیر پائلٹ کے نظام کا پتہ لگانا اور انھیں نشانہ بنانا مشکل ہے، اور اگر وہ تباہ ہو جاتے ہیں، تو ان کی کم قیمت نقصان کو برداشت کرنا آسان بنا دیتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ ممکنہ طور پر خطے میں اپنے انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس کے امریکی اڈوں کی ایران سے قربت کو دیکھتے ہوئے، مجھے نہیں لگتا کہ ان اڈوں پر جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی تعیناتی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔
ان کے مطابق فالکن سٹرائیک پلان کے ممکنہ مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ چند بڑے، مقررہ اڈوں اور پلیٹ فارمز پر موجود امریکی جارحانہ طاقت پر انحصار کو کم کیا جائے اور ڈرون اور بغیر پائلٹ کے جہاز مختلف مقامات پر تعینات کیے جا سکیں۔
لیکن پیٹی جان نے زور دیا کہ یہ کوئی مکمل حل نہیں ہے۔
عملی امتحان
شاید فالکن سٹرائیک فورس کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا سب سے مشکل حصہ ڈرونز کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ علاقائی ممالک کو مشترکہ جارحانہ فورس میں شامل ہونے پر راضی کرنا ہو گا۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی سٹیسی پیٹی جان کا کہنا ہے کہ ’ملٹی ڈومین آپریشنز مختلف قوتوں اور مہارتوں کی شمولیت کی وجہ سے پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلہ سازی کو بھی سست کر دیتی ہے اور معلومات کے تبادلے، اتفاق رائے کی تعمیر، اور آلات کی مطابقت میں مسائل پیدا کرتی ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ’طاقت کو کثیر القومی بنانے کا اصل امریکی محرک ممکنہ طور پر اڈوں تک رسائی سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو میزبان ممالک کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی ضرورت ہے تاکہ وہ لانچرز کی تعیناتی، سازوسامان کی دیکھ بھال اور آپریشن کر سکیں۔‘
خلیج فارس کے عرب ممالک نے فضائی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کیا ہے، لیکن حالیہ جنگ کے دوران انھوں نے خود کو ایران کے خلاف حملوں میں براہ راست ملوث ہونے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے، کم از کم سرکاری اور عوامی سطح پر۔
ایرانی حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے خاف حملوں میں حصہ لینے کے نتائج ہوں گے، بشمول سہولیات اور اڈے فراہم کرنا۔ اس لیے کچھ ممالک صرف تربیت، سمندری نگرانی، یا بنیادی ڈھانچے کے دفاع میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن فالکن ٹاسک فورس کے فریم ورک کے اندر جارحانہ کارروائیوں میں حصہ لینے کے بارے میں زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔
کچھ ممالک شاید صرف خفیہ انٹیلی جنس تعاون کو ترجیح دیں۔