سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد میں واقع نجی شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان تین برس سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیںسپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد میں واقعنجی ہسپتال شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
منگل کے دن تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہن عظمی خان کی درخواستوں پر حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اورعظمی خان بھی شامل ہوں گی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کیمیڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی صحت پر تحریک انصاف سیاست نہیں کرے گی اور سابق وزیراعظم اگلی سماعت تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی اگلی سماعت 16 ستمبر مقرر کی ہے۔
یہ عبوری حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اُن کے اہلخانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے کی صورت میں احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔
میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظمکے لیے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی اور کچھ دیر ذہنی سکون کی سرگرمیاں تجویز کی تھیں۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے مختلف تفصیلات شامل تھں۔
سابق وزیراعظم عمران خان تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انھیں 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس کے مقدمے سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔
پیر کے روز پی ٹی آئی کے دیگر سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی غیرآئینی، غیرقانونی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور اہلخانہ کی موجودگی میں بہتر ہسپتال میں علاج ہو۔۔۔ اور اگر ملاقات کروائی جاتی ہے تو گارنٹی دیتے ہیں کہ باہر آ کر کوئی بھی شخص سیاسی بات نہیں کرے گا۔‘

رپورٹ میں مزید کیا ہے؟
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینزائٹی (بے چینی)کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبیمعائنے کے دوران عمران خان کابلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میںسابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہعمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی ہیں۔

رپورٹ میں عمران خانکو میگزین، اخبارات، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے اورمیڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلِخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق خاندانی میل جول بڑھانے سے عمران خانکی بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اڈیالہ جیل کے حکام نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے اسی قسم کی درخواستکچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میںقائم ہونے والا بینچ اس درخواست کونمٹا چکا ہے۔
’سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے‘
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہعمران خان سے ملاقات کے بعد جیل کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اس ضمن میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم سے جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور رپورٹ کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ کی اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور چار اپریل 2026 کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میڈیکل افسران عمران حان کا دن میں تین مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظمکا چیک اپ متعدد سرکاری معالجین بھی کرتے رہے جس کا ریکارڈ موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے۔
جیل حکام کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس رپورٹ میںعمران خان کی چار نومبر 2023 سے لے کر 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے طبی معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے۔ جیل حکام کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس درخواستکو نمٹا دے۔
اینزائٹی لیول تھری پلس کیا ہے اور اس کا کیا علاج ہے؟
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریاض بھٹی نے بی بی سی کے اسد صہیب کو بتایا کہ تھری پلس اینزائٹی ’شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ مذکورہ شخص اپنے اردگرد کے ماحول کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔‘
’یہ اضطرابی کیفیت زیادہ دیر تک تنہائی میں رہنا، کسی سے میل جول نہ ہونا سے بڑھ جاتی ہے اور مریض اس کی وجہ سے مایوسی اور ڈپریشن میں بھی جا سکتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس کا علاج تو یہی ہے کہ مذکورہ شخص سے میل جول کی اجازت دی جائے اور جس جگہ وہ موجود ہے وہاں کے حالات اس کے لیے سازگار بنائے جائیں۔
ڈاکٹر ریاض بھٹی کے بقول میل ملاقاتوں اور چہل قدمی اور ورزش سے بھی بے چینی اور گھبراہٹ کی علامات کم ہوتی ہیں۔